کیا زبانیں بھی ہندو مسلم ہوگئیں؟ جاوید رضوی

آن لائن فوڈ سروس ویب سائٹ زومیٹو کے ایک ڈلیوری بوائے سے ایک گاہک نے صرف اس لئے کھانا نہیں لیا تھاکیوںکہ وہ مسلمان تھا۔ اتنا ہی نہیں اس گاہک نے زومیٹو کو مخاطب کرتے ہوئے اس معاملہ پر ایک ٹوئٹ بھی کیاتھا اور اس نے فوڈ کمپنی پر ہی سوال اٹھایاتھا۔اس گاہک کو پہلے تو زومیٹو کے ٹوئٹر ہینڈل سے جواب دیا گیاتھا بعد میںزومیٹو کے بانی دپیندر گوئل نے بھی سخت جواب دیاتھاکہ ’کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کھانا خود ایک مذہب ہے‘۔زومیٹو کے بانی دپیندر گوئل نے ٹوئٹر پر لکھاتھا، ’’ہم آئیڈیا آف انڈیا اور ہمارے گاہکوں-پارٹنرز کے تنوع پر ناز کرتے ہیں‘‘۔ ہمارے اصولوں کی وجہ سے کاروبار کو بھی نقصان ہوتا ہے تو بھی ہمیں کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ ‘‘زومیٹو اور اس کے بانی کی طرف سے اس معاملہ پر جو جواب دیا گیا تھااسکی سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ہو ئی تھی۔ ساتھ ہی پنڈت امت شکلا جس نے اس معاملہ کو اٹھایا تھااور ٹوئٹ کیا تھا اسے کافی کھری کھوٹی سنا ئی گئیں تھیں۔
لیکن یہ ہندومسلم تنازعہ رکنے کانام نہیں لے رہا ہے گذشتہ دنوں فیروزخان نے بنارس یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لئے انٹرویوز میں شاندار کامیابی حاصل کی  ۔مگر متعصب ہندو اساتذہ اور طلبہ نے تقرری کے خلاف مظاہرے شروع کردیئے اور ان مظاہروں نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ فیروز خان استاد کی نوکری جوائن نہ کرسکے۔سنسکرت کا مسلمان پروفیسر فیروز خان انتہاپسندہندئوں کے لئے ناقابل قبول ہوگیا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹ کے لئے ۱۱۰ ہندو امیدواروں کو انٹرویوز میں شکست دینے والا فیروز خان سینکڑوں ہندو طلبہ کے تعصب کا شکارہوگیا۔بتایا جارہا ہے کہ یونیورسٹی کے سامنے روزانہ کے احتجاجی مظاہروں اوربھوک ہڑتا ل کے بعد مظاہرین کی’’ہون پوجا ‘‘تک پہنچ گئی ہے۔ایک انگریزی اخبار کے مطابق فیروز خان کے داد غفور خان سنسکرت کے بڑے ماہر تھے اور ان کو بھی سنسکرت پر کافی عبورتھا۔میڈیا خبروں کے مطابق فیروزخان کا تعلق راجستھان سے ہے انہوںنے سنسکرت میں پی ایچ ڈی حاصل کی ہے،سینکڑوں مقالے تحریر کئے ہیں اور متعدد گولڈ میڈلزبھی حاصل کئے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان سنسکرت نہیں پڑھاسکتا ہے؟جبکہ اس  ہنگامہ آرائی پر آر ایس ایس کے ذیلی ادارے سنسکرت بھارتی کے تنظیمی سکریٹری دیو پجاری نے بیان دیا کہ ’’ہرکوئی سنسکرت زبا ن سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے،اور سنسکرت زبان پڑھا سکتا ہےمیرے خیال میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلبہ غلط کررہے ہیں،سنسکرت ایک تہذیبی زبان ہے اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے‘‘۔
 ہندوستان آج 21 ویں صدی میں داخل ہوچکا ہے، ہرمذہب اورہرطبقےکےلوگ ہرزبان کا علم رکھتےہیں اورآئینی طورپران کا حق بھی ہے۔ ایسے میں اگرمسلم پروفیسرسنسکرت پڑھا رہا ہے تویہ زیادہ اچھی بات ہے۔ ان کی مخالفت نہیںہونی چاہئے، بلکہ طلبہ کو ان کا استقبال کرنا چاہئے۔ کیونکہ ایک مسلم ہوکرسنسکرت زبان کا پروفیسرہے۔
میرٹھ ضلع کے ایک ڈگری کالج میں سنسکرت شعبے میں کئی مسلم طالبات سنسکرت زبان میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اس زبان میں عبور حاصل کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ان طالبات کے لیے تشویشناک لمحہ یہ ہے کہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری پانے والے فیروز خان کے خلاف طلبا جس طرح سے مظاہرے کر رہے ہیں اس سے انہیں تشویش ہے اور ان کے ذہنوں میں مستقبل کے تئیں کئی طرح سے وسوسے پیدا ہو رہے ہیں۔بیشتر طالبات جو سنسکرت زبان میں اپنی مستقبل کو تلاش کر رہی ہیں اور ان کا خواب تھا کہ سنسکرت زبان میں وہ ٹیچر بن کر نمایاں کارکردگی انجام دیں گی اب ان کے ذہن میں مختلف سوالات گردش کر رہے ہیں۔طالبات کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی فیروز خان کے خلاف ہورہا ہے وہ سراسر غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ زبان کسی کی جاگیر نہیں کوئی بھی اسے سیکھ سکتا ہے کیوں کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور معاشرے کا ہر فرد کوئی بھی زبان سیکھ بھی سکتا ہے اور اسے پڑھا بھی سکتا ہے۔ ایسے میں ایک خاص نظریے سے جوڑ کر سنسکرت زبان کو دیکھنا سراسر غلط ہے۔جبکہ اس کالج میں ہندو طالبات سے زیادہ مسلم طالبات سنسکرت زبان سیکھ رہی ہیں اب ایسے میں اگر زبان کو مذہب کے خانے میں تقسیم کر دیا جائے گا تو نہ صرف یہ کہ اس خاص زبان کی فروغ پر اثر پڑے گا بلکہ بڑا علمی سرمایہ بھی حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *