کرناٹک کا ناٹک ختم، کانگریس – جے ڈی ایس کی حکومت گرگئی، بی جے پی کو مل گئی اکثریت

کرناٹک کی سیاسی رسہ کشی گزشتہ 21 دن سے جاری تھی، لیکن آج کرناٹک کا ناٹک ختم ہوگیا۔ کانگریس – جے ڈی ایس اتحاد کی حکومت گرگئی ہے ۔ کمارا سوامی فلورٹیسٹ میں ناکام ثابت ہوئے۔ زبردست رسہ کشی کے بعد کانگریس اورجے ڈی ایس اتحاد کی حکومت گر گئی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کواکثریت مل گئی ہے۔ اب سب کی نظریں گورنر پرمرکوز ہیں۔ کمارا سوامی فلورٹیسٹ کے دوران اکثریت ثابت نہیں کرسکے۔ انہیں صرف 99 ووٹ ملے تو وہیں بی جے پی کو 105 ووٹ ملے۔فلورٹیسٹ سے قبل اسمبلی میں اعتماد کی ووٹنگ پرچرچا کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا تھا کہ خوشی سے اپنے عہدے کی قربانی دینے کے لئے تیارہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلورٹیسٹ کی کارروائی کو طویل کھینچنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی اسپیکراورریاست کی عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ کمارا سوامی نے کہا کہ یہ بھی چرچا چل رہی ہے کہ میں نے کیوں استعفیٰ نہیں دیا اورکرسی پرکیوں بنا ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2018 میں اسمبلی الیکشن کے نتائج آئے تھے، وہ سیاست چھوڑنے کی سوچ رہے تھے۔ کمارا سوامی نے کہا کہ میں سیاست میں اچانک اورغیرمتوقع طورپرآیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ 21 دنوں سے یہ رسہ کشی جاری تھی۔ ہربارنئی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے، لیکن ایچ ڈی کمارا سوامی حکومت کا فلورٹیسٹ نہیں ہوپاتا۔ باربار ٹلنے کے بعد منگل کو کانگریس – جے ڈی ایس حکومت کا فلورٹیسٹ ہوا، جس کے نتیجے میں اتحاد حکومت  کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل پیرکوبھی دیررات جنتا دل سیکولر- کانگریس اراکین اسمبلی کے ساتھ بی جے پی اراکین اسمبلی کا ٹکراو ہوتا رہا۔ بی جے پی اراکین اسمبلی عدم اعتماد کی تجویزپرووٹنگ کولےکراڑے رہے۔  اس کے بعد اسپیکر کےآررمیش کمارنےکمارا سوامی حکومت کوہرحالت میں منگل کی شام 6 بجے تک اکثریت ثابت کرنےکوکہا ہے۔ فلورٹیسٹ کےلئےایوان کی کارروائی جاری ہے۔ اس دوران کانگریس لیڈرڈی کےشیوکمارباغی اراکین اسمبلی پربھڑکتے ہوئے نظرآئے۔وزیراعلیٰ کمارا سوامی نےکہا کہ وزیراعلیٰ کی پوزیشن مستقل نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے فلورٹیسٹ سے قبل کہا کہ میں خوشی سے وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑنےکےلئےتیارہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چینل آئی ایم اے معاملے بریانی کی کہانی کے بارے میں چرچا کررہے تھے۔ کمارا سوامی نے کہا کہ میں میڈیا سے کہہ رہا ہوں کہ اس ملک کو برباد مت کیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *