پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی گھٹانے میں مدد دینے والی غذائیں

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند بھلا کس کو اچھی لگ سکتی ہے؟ خواتین اور مرد دونوں ہی اپنی پھیلتی کمر اور نکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں، اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے نجات پانا بہت مشکل لگتا ہے۔ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک ایسے متعدد طریقے ہیں جن کی مدد سے لوگ توند سے نجات پانے اور اضافی چربی کو جلد از جلد گھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔تاہم کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جن کے استعمال کو اگر عادت بنالیا جائے تو وہ پیٹ کو سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
دارچینی:کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دار چینی بلڈشوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دینے والا مصالحہ ہے، جس سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے خصوصاً ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں، مگر ہر ایک اس مصالحے سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اسے چائے یا کافی کا حصہ بناکر یا دہی میں ڈال کر استعمال کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
گریپ فروٹ:ویسے تو یہ چربی گھلانے والی جادوئی خصوصیات نہیں رکھتا مگر یہ پھل بہت کم کیلوریز میں پیٹ کو بھرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو ہضم ہونے میں کافی وقت لیتی ہے۔ آدھا گریپ فروٹ یا ایک گلاس گریپ فروٹ جوس کا کھانے سے پہلے پینا کم کیلورجز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔
سیب اور ناشپاتی:سیب اور ناشپاتی دونوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، چھلکوں کے ساتھ ان پھلوں کو کھانا اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے، ان کے جوس کی بجائے پھل کو کھانا توند میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ فائبر جسم کو ملتا ہے جبکہ ان پھلوں کو چبانے سے بھی چند کیلوریز جل جاتی ہیں۔
بیریز:دیگر پھلوں کی طرح بیریز میں بھی پانی اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں، بیری کی ہر قسم میٹھی ہوتی ہے جو مٹھاس کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے مگر چینی کے مقابلے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔
شکرقندی:شکرقندی بہت مزیدار ہوتی ہے خاص طور پر اگر اسے بھون کر کھایا جائے اور کم کھانے پر بھی پیٹ بھرجاتا ہے، جس سے کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں جبکہ شکرقندی پوٹاشیم، بیٹا کیروٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو موٹاپے سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔
انڈے:ایک انڈے میں صرف 75 کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ 7 گرام پروٹین جسم کو ملتا ہے، بھاری بھرکم ناشتے کے مقابلے میں انڈے کو ہضم کرتے ہوئے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسے کسی بھی شکل میں کھایا جاسکتا ہے اور اس میں موجود کولیسٹرول نقصان نہیں پہنچاتا۔
یخنی:یخنی جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز بہت کم، گرم ہونے کی وجہ سے بھی اسے زیادہ پینا ممکن نہیں ہوتا، کھانے سے پہلے اس کی کچھ مقدار کو پی لینا زیادہ کھانے سے روکتی ہے۔
پوپ کارن:تین کپ پوپ کارن سننے میں تو بہت زیادہ لگ سکتے ہیں مگر ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جبکہ چربی یا شکر بھی اس میں موجود نہیں ہوتی جو پیٹ بھرنے کے ساتھ موٹاپے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔
مچھلی:مچھلی پروٹین کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جبکہ ان میں چربی بہت کم ہوتی ہے اور وہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند چربی۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی مچھلی کو فائدہ مند بناتی ہے جس سے امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
جو اور گریاں:توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے اور یہ عام طور پر دلیہ اور سبزیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایسی غذاؤں میں جو کا دلیہ، گریاں قابل ذکر ہیں اور اس فائبر کا روزانہ 25 سے 35 گرام کرنا چاہئے جو کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کیلے:کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے کھانے سے میٹابولزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔
تربوز:تربوز بھی ایسا پھل ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ واٹر ویٹ سے نجات میں مدد دیتا ہے، عام طور پر ایک بالغ فرد کے جسمانی وزن کا 50 سے 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار کو واٹر ویٹ کہا جاتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے اور سوجن کا باعث بن کر لوگوں کو زیادہ موٹا دکھاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تربوز کا شربت پینے سے جسمانی چربی گھلتی ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔
دہی
پروبائیوٹک غذاؤں میں صحت کے لیے فائدہ مند ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب موٹاپے کے شکار افراد کو روزانہ ایک کپ دہی کھلائی گئی تو ان کی جسمانی چربی میں 3 سے 4 فیصد کمی آئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی کو روزانہ کھانا نظام ہاضمہ کو صحت مند بنا کر توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *