فڑنویس پر مجرمانہ معاملہ

حلف نامہ میں غلط اطلاع دینے پر سپریم کورٹ کی نوٹس
سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے، ان پر 2014 کے انتخابات کے دوران حلف نامہ میں غلط اطلاع دینے کا الزام ہے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف نوٹ جاری کر دیا ہے۔ دراصل فڑنویس پر سال 2014 کے انتخابات کے دوران غلط حلف نامہ داخل کرنے کا الزام ہے۔ فڑنویس کے خلاف عرضٰ ستیش نامی شخص نے داخل کی ہے۔ عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فڑنویس نے اسمبلی انتخابات کے پرچہ نامزدگی کے ساتھ داخل کئے گئے حلف نامہ میں ان کے خلاف زیر التوا مجرمانہ مقدمات کا ذکر نہیں کیا تھا۔عرضی گزار کے وکیل کپل سبل نے دلیل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فڑنویس کا چناؤ رد کیا جائے کیوں کہ انہوں نے انتخابی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ادھر مہاراشٹر کے دفتر وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی ہے کہ حلف نامہ میں مجرمانہ معاملات کا ذکر کیا گیا۔ دفتر وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کا نوٹس حاصل ہوا ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف نے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر عرضی میں فڑنویس سے جواب طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے ستیش کی وہ عرضی خارج کر دی تھی جس میں انہوں نے فڑنویس کے انتخاب کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔عرضی گزار ستیش نے سال 2015 میں ناگپور کے جیوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے عرضی دائر کی تھی لیکن ان کی عرضی خارج کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد ستیش بامبے ہائی کورٹ تک پہنچے لیکن وہاں بھی ان کی عرضی خارج کر دی گئی۔
 آخر میں اب ستیش نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے فڑنویس کا انتخاب رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *